مخطوطات کے اہم کتب خانے - BAHISEEN

اسلامی مخطوطات کے ذخیروں کا تعارف

                                                     مخطوطات پر تحقیق علوم اسلامیہ کا ایک اہم باب ہے۔ مخطوطات  پر تحقیق سے پرانا ذخیرہ Rephraseہوجاتا ہے۔ لوگوں کے لیے استفادہ ممکن ہوجاتا ہے۔ نسخوں کے درمیان موازنہ ہوجاتا ہے اور ایک سے زیادہ نسخوں سے مراجعت کی وجہ سے متن کی صحت اور استناد کا یقین ہوجاتا ہے۔ بعض اوقات مخطوطے کی دریافت تحقیق کی دنیا میں ایک نیا موڑ ثابت ہوتی ہے جیسے ڈاکٹر محمد حمید اللہ کی دریافت جو حدیث کے استناد کے حوالے سے ایک اہم پیش رفت  ثابت ہوئی ۔ مخطوطات پر تحقیق سے قدیم ذخیرے  اور بنیادی ماخذ تک رسائی میں سہولت ہو جاتی ہے۔

                                                     اہل ذوق اس حوالے سے بڑی  محنت کے بعد مخطوطات جمع کرتے ہیں اور ان کی حفاظت، تدوینِ نو کا انتظام کرتے ہیں۔ باحثین اس پر تحقیق و تنقید کے بعد انہیں  جدید معیار کے مطابق پیش بھی کرتے ہیں۔ علوم اسلامیہ میں تحقیق کرنے والوں کو ان ذخیروں  سے رجوع کی ضرورت پڑتی رہتی ہے۔ اس لیے یہاں ان ذخیروں کا تعارف دیا  جارہا ہے۔

مغرب میں اسلامی مخطوطے


                                                                                          مغرب میں اسلامی مخطوطوں کے بے شمار ذخیرے موجود ہیں۔ مغرب میں مخطوطوں کی آمد کی تاریخ بہت قدیم ہے۔ اس موضوع پر بہت سے سوال تشنہ طلب ہیں۔ کچھ ایسے اتفاقات سامنے ہیں جن پر تحقیق کی ضرورت ہے۔اس صفحے کا مقصد یہ ہے کہ ان ذخائر سے باحثین آشنا ہوں تاکہ موضوع پر تحقیق آگے بڑھے۔ ذیل میں مغرب کے ان ذخائر کا مختصر تعارف اور لنک دیا جارہا ہے جہاں علوم اسلامیہ کے مخطوطات کے بڑے ذخائر موجود ہیں۔

عرب دنیا میں اسلامی مخطوطے


                                                                عرب دنیا میں اسلامی مخطوطوں کا سب سے بڑا ذخیرہ ہے اور مخطوطات کی جمع وتدوین کے ساتھ اہل عرب خصوصی شغف رکھتے ہیں۔ ایک تو اس وجہ سے کہ اسلامی مخطوطوں  کا بڑا ذخیرہ عربی زبان میں  ہے جو عرب کی مقامی زبان ہے ۔ دوسری وجہ یہ کہ عربوں کی تاریخ اسی سے وابستہ ہے۔ اس کے علاوہ عربوں کے ہاں طباعت کا بھی اعلی معیار اور ذوق موجود ہے۔عربوں نے مخطوطات پر بڑا کام کیا ہے۔  عرب میں اس تراث پر خصوصی توجہ دی جارہی ہے۔  ذیل میں مخطوطات کے بڑے ذخائر کا تعارف دیا جارہا ہے۔

پاک و ہند میں اسلامی مخطوطے


                                                  برصغیر پاک و ہند میں علوم اسلامیہ سے شغف رکھنے والوں نے تصنیف و تالیف میں تاریخ رقم کی ہے۔ جس دور میں چھاپہ خانے ایجاد نہیں ہوئے تھے یا ان تک رسائی ہر صاحب علم کی دسترس میں نہیں تھی تب لوگوں نے اپنی بازیافتوں اور یادداشتوں کو مخطوط کی شکل میں محفوظ کیا۔ یہی مخطوطے یا بعض کتب کے حواشی کتاب فہمی کے ایسے معیار کے حامل بھی ثابت ہوئے کہ بعد میں آنے والے بھی ان کےذوق اور لیاقت کی گواہی دیتے ہیں۔ یہاں ان مخطوطوں کے ذخائر کا مختصر تعارف موجود ہے۔

پرنٹ لیں، محفوظ کریں، میسیج کریں، واٹس ایپ پر بھیجیں یا سوشل میڈیا پر شئیر کریں