مغرب میں اسلامی مخطوطے - BAHISEEN

مغرب میں اسلامی مخطوطے

                                                مغرب میں اسلامی مخطوطوں کے بے شمار ذخیرے موجود ہیں۔ مغرب میں مخطوطوں کی آمد کی تاریخ بہت قدیم ہے۔ مشرق سے جاکر بسنے والے، جنگوں اور لڑائیوں کے سلسلے میں جانے والے، مشرقی علوم حاصل کرکے مغرب واپس جانے والے افراد کے ذریعے یہ مخطوطے سفر کرکے مغرب میں پہنچے۔

                                                اس کے بعد مسلمانوں نے جہاں جہاں سلطنت قائم کی وہاں علمی انقلاب آیا اور اس علمی تحریک میں علم  کے شوق میں لوگوں نے لائبریریاں بنائیں۔ وقت کے گزرنے کے ساتھ  ساتھ وہ لائبریریاں سیاسی اور جنگی حالات میں ضائع ہوگئیں یا جان بوجھ کرکردی گئیں۔ یورپ کی نشأۃ ثانیہ کے دور میں ان ذخائر کو دوبارہ محفوظ کرنے کی تحریک شروع ہوئی اور جہاں جہاں یہ نسخے موجود تھے ، سامنے آ نے لگے اور یوں ان کا ذخیرہ محفوظ کرلیا گیا۔

                                                ان مخطوطات کا کچھ حصہ عرب اورافریقہ کے مہاجرین کے ہاتھوں پہنچا جو اپنے علاقے چھوڑ کر مغرب میں آوارد ہوئے تھے۔ جب کہ موجود ذخائرمیں سب سے بڑا حصہ ان مخطوطات کا ہے جو اہل مغرب اپنے نوآبادیاتی دور میں مشرق سے اٹھا کر مغرب میں لے آئے۔

                                                اس موضوع پر بہت سے سوال تشنہ طلب ہیں۔ کچھ ایسے اتفاقات سامنے ہیں جن پر تحقیق کی ضرورت ہے۔

                                                اس صفحے کا مقصد یہ ہے کہ ان ذخائر سے باحثین آشنا ہوں تاکہ موضوع پر تحقیق آگے بڑھے۔ذیل میں مغرب کے ان ذخائر کا مختصر تعارف اور لنک دیا جارہا ہے۔

پرنٹ لیں، محفوظ کریں، میسیج کریں، واٹس ایپ پر بھیجیں یا سوشل میڈیا پر شئیر کریں