پاک و ہند میں اسلامی مخطوطے - BAHISEEN

پاک و ہند میں اسلامی مخطوطے

                                                برصغیر پاک و ہند میں علوم اسلامیہ سے شغف رکھنے والوں نے تصنیف و تالیف میں تاریخ رقم کی ہے۔ جس دور میں چھاپہ خانے ایجاد نہیں ہوئے تھے یا ان تک رسائی ہر صاحب علم کی دسترس میں نہیں تھی تب لوگوں نے اپنی بازیافتوں اور یادداشتوں کو مخطوط کی شکل میں محفوظ کیا۔ یہی مخطوطے یا بعض کتب کے حواشی کتاب فہمی کے ایسے معیار کے حامل بھی ثابت ہوئے کہ بعد کے زمانوں میں ان کی تجدید اور ری فریزنگ کرکے من وعن شائع کیے جاتے رہے۔ عربی اور فارسی کتب کی بے شمار شروحات اور حواشی آج بھی ان اہل ذوق کی استعداد اور لیاقت کی گواہی دیتے ہیں۔

                                                انحطاط کے دور میں یہ تحریک ختم ہوگئی اور علوم اسلامیہ میں تحقیقات کو لوگوں کی وہ توجہ حاصل نہ رہی تو دیگر علوم کی طرح علوم اسلامیہ سے شغف رکھنے والے بھی پس پردہ چلے گئے۔ ان لوگوں نے انفرادی طور پر مخطوطات کو اپنے ذوق کے مطابق جمع کیا۔ یہ کوششیں کوئی منظم نہیں تھیں کہ جنہیں یک بارگی دریافت کرلیا جاتا۔ حالات کے اتار چڑھاؤ میں بہت سے ذخیرے نایاب ہوگئے اور کچھ ذخیرے منظر عام پر بھی آئے۔ مخطوطوں کی ڈیجیٹلائزیشن کے رجحان کے باعث یہ ذوق فی زمانہ ختم ہورہا ہے۔ پرانے ذخیرے بھی جہاں جہاں موجود تھے وہ بھی رفتہ رفتہ لائبریریوں کی تحویل میں آگئے ہیں۔

                                                یہاں ان مخطوطوں کے ذخائر کا مختصر تعارف موجود ہے۔

پرنٹ لیں، محفوظ کریں، میسیج کریں، واٹس ایپ پر بھیجیں یا سوشل میڈیا پر شئیر کریں