مقالہ نگاروں کی تکنیکی راہ نمائی

کتابوں کا سب سے بڑا ذخیرہ archive.org کیوں بند ہے؟ کھولنے کا طریقہ؟

کتابوں کا سب سے بڑا ذخیرہ آرکائیو ڈاٹ آرگ archive.org کیوں بند ہے؟

اسے کھولنے کا طریقہ کیا ہے؟

archive

……………………………………………

کچھ صارفین نے یہ سوال پوچھا ہے کہ آن لائن کتابوں کا  سب سے بڑا ذخیرہ جو آرکائیو ڈاٹ آرگ (archive.org) کے نام سے موجود ہے کیوں بند ہے؟ کن وجوہات کی بنا پر اسے بین کیا گیا ہے اور اسے کھولنے کا کیا طریقہ ہے؟  یہ پوسٹ اسی معاملے پر راہ نمائی کے لیے لکھی گئی ہے۔

                                                                    گزشتہ دنوں اردو، عربی، علوم اسلامیہ اور سوشل سائنسز سے تعلق رکھنے والے محققین کو عجیب  صورت حال  کا سامنا کرنا پڑا کہ آرکائیو کی ویب سائٹ کو بین کردیا گیا۔ اس اقدام پر اسکالرز اور کتاب دوست حلقوں میں شدید بے چینی دیکھنے کو ملی۔ طرح طرح کی قیاس آرائیاں بھی سامنے آئیں جن میں سے کچھ حقیقت پر مبنی تھیں اور کچھ  متعلقہ اداروں کا اخباری بیان تھا۔

                                                                    اس بے چینی کہ وجہ معقول ہے۔  اس اقدام سے اردو، عربی، علوم اسلامیہ اور سوشل سائنسز سے تعلق رکھنے والے اسکالرز زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔ وجہ یہ ہے کہ ان شعبوں سے تعلق رکھنے والے اسکالرز کو قدم قدم پر کتاب کی ضرورت پڑتی ہے۔ ”آرکائیو ڈاٹ آرگ “ کی بندش اس حوالے زیادہ متاثر کن رہی ہے کہ آرکائیو ڈاٹ آرگ کا خزانہ نہ صرف اپنی حد تک ہی اہمیت کا حامل ہے بلکہ یہ بے شمار ویب سائٹس کے لیے بیک اپ کا سورس ہے اور بے شمار ایسی ویب سائٹس ہیں جو اپنا ڈیٹا پہلے آرکائیو پر سٹور کرتی ہیں اور پھر وہاں سے اپنے پیجز پر بطور حوالہ منتقل کرتی ہیں۔  آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ شاملہ اور وقفیہ جیسے پراجیکٹ بھی بیک اپ سورسز  کے طور پر آرکائیو ڈاٹ آرگ کا استعمال کرتے ہیں۔ زیادہ حجم کے ڈیٹا  کی ہمہ وقت فراہمی کے لیے ایسا کرنا ضروری بھی  ہے ۔

                                                                    آرکائیو ڈاٹ آرگ کی بندش کی وجہ سے  وہ ویب سائٹس بھی متاثر ہوئی ہیں جو صرف آرکائیو ڈاٹ آرگ کو بطور منبع استعمال کرتی  رہیں ۔ اس بندش سے متعلق قیاس آرائیوں میں سرفہرست یہ بات رہی کہ  آرکائیو ڈاٹ آرگ پر فرقہ واریت  پر  مبنی مواد موجود ہے۔  دلچسپ بات یہ ہے کہ سن دوہزار چودہ اوردوہزار سولہ میں اس ویب سائٹ کو Adult Content  کا الزام لگا کر بند کیا جاتا رہاہے۔ حالاں کہ  اس ویب سائٹ پر ایسا کوئی ذخیرہ ہماری معلومات  اور تحقیق کے مطابق موجود نہیں ہے۔ حتی کہ کروڑوں کتب میں شاذ ونادر  ہی کوئی ایسی کتاب موجود ہوگی۔ مگر الزام  یہی ہے۔  ایک خاموش سوال یہ بھی ہے کہ کیا Adult Content  والی ویب سائٹ صرف آرکائیو  ڈاٹ آرگ ہی  ہے۔ ریکارڈ پر موجود دھندہ کرنے والی ٹاپ لسٹ ویب سائٹس پر یہ قدغن از خود  کیوں نہیں لگائی جاتی؟

                                                                    یہ  مسئلہ پاکستان میں درآمد کرنے سے پہلے Adult Content کے الزام کے ساتھ ہی پیش کیا جاتا تھا۔  یکایک جب یہ  مسئلہ  پاکستان میں  منتقل ہوا اور آرکائیو  ڈاٹ آرگ مستقل  طور پر بند ہوئی تو اسے فرقہ واریت  کا عنوان دے دیا گیا۔  متعلقہ اداروں کے جن صاحب نے فرقہ واریت کے مواد کا ذکر کیا وہ  ہمارے اس اکلوتے سوال کا جواب نہ دے پائے کہ کسی ایک کتاب کا نام بتایا جائے  جو فرقہ واریت  پر مشتمل ہو؟  انہیں یہ بھی علم نہ تھا کہ آرکائیو پر کتابوں کے علاوہ اربوں  ویب پیجز کا  کیپچرڈ ریکارڈ بھی موجود ہے۔ اس پر آؤٹ سورس آڈیوز، ویڈیوز اور اس کے علاوہ بھی  بہت بڑے بڑے ذخائر موجود ہیں۔اس ریکارڈ میں   افغانستان اور عراق کی امریکہ کی فوجی مہمات کا  بدنام زمانہ   لائیو ویڈیو ریکارڈ بھی موجود ہے جو کوئی بھی ویب سائٹ فراہم نہیں کرسکتی۔  جن کی اشاعت کی اجازت کوئی ادارہ نہیں دے سکتا۔   تمام بڑی ویب سائٹس اس مواد کو سپرپاورز کے وسیع تر مفاد میں حذف کرچکی ہیں اور کوئی انٹرنیشنل یا کاروباری سرور اسے آن لائن فراہم  نہیں کررہا کیوں کہ انہیں حکومتی اداروں کی طرف سے تنقید اور مزاحمت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔  بات اگر صرف ”فرقہ واریت “  کی ہے تو اس سوال کا جواب بھی دیا جانا چاہیے کہ آرکائیو ڈاٹ آرگ ہی کے متعلقہ پراجیکٹ اوپن لائبریری پر اسی قسم کا مواد کیوں دستیاب ہے؟

                                                                     اس ویب سائٹ سے متعلق یہ  حقیقت بھی آ پ کے پیش نظر رہے کہ  یہ ویب سائٹ  مختلف اوقات میں  بے شمار ممالک میں  بند  کی جاتی رہی ہے۔ یہ بھی  معلوم رہے کہ  اس ویب سائٹ  کو کبھی یورپی ممالک میں بند نہیں کیا گیا۔ سردست یہ بھی آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ جو ممالک عالمی  پابندیوں  کے زیر اثر رہتے ہیں ان سے یہ مطالبہ کیا جاتا ہے کہ وہ آرکائیو  ڈاٹ آرگ کو محدود رکھیں۔

                                                                    آرکائیو ڈاٹ آرگ  کے سرورز امریکی ریاست  سان فرانسسکو، کیلیفورنیا میں موجود ہیں۔ آرکائیو ڈاٹ آرگ کو امریکی ادارہ ہونے کے باعث وہ تمام قانونی حقوق حاصل ہیں جو  پاکستان میں کسی ناشر، پبلشر، ادارے یا اکثریت پر مشتمل جمہوری اکائی کو  بھی حاصل نہیں ہیں۔ ترقی یافتہ ممالک میں آرکائیوز کے قانون کے مطابق آثارقدیمہ سے متعلق تمام دستاویز کو تحفظ دینا بنیادی ذمہ داری ہے اور اس سے متعلق سخت قوانین موجود اور لاگو ہیں اور کوئی ادارہ روایتی طور پر اس سے انحراف کی جرات نہیں کرسکتا کیوں کہ وہاں کچھ ضمیر فروش اور غداران ملت  قسم کے لوگوں سے ادارے خائف ہیں۔ آرکائیو ڈاٹ آرگ بھی مڈل ایسٹرن افئیرز، فارن افئیرز، پالیسی سازوں اور نفاذ کنندگان کے لیے گلے کی ہڈی بن چکی ہے جسے اگلنا اور نگلنا ناممکن ہے۔

                                                                    آپ اندازہ کیجیے ان مشکلا ت کا جو انہیں درپیش ہیں۔ ایک طرف تو کھربوں ڈالر کا بجٹ ہے جو ایشیائی ممالک  پر آگ اور بارود کی شکل میں پھینکا جارہا ہے تاکہ انہیں ناقابل تسخیر سمجھا جاسکے۔ اور بار بار اس پر کڑی تنقید بھی کہ مفادات حاصل ہوئے بھی یا نہیں؟ دوسری طرف افغانستان اور عراق و شام کی دستاویزات جو امریکی فوج کی بہادری کا پول کھولتی ہیں۔ دس بیس سال بعد جب تاریخ کو تبدیل کیا جاچکا ہوگا تب آنے والی نسلوں کو ان  حقائق سے کوئی آگاہ نہیں کرے گا۔ دیگر وجوہات کے ساتھ ساتھ  یہ بھی ایک  چھوٹا سافیکٹر ہے۔ بڑا فیکٹر وہی ہے جسے فرقہ واریت کہا جارہا ہے۔  بعید نہیں کہ چھوٹے اور بڑے فیکٹر ایک ہی ہوں۔

                                                                    خیر یہ تو  ایک ضمنی بحث تھی ۔  سننے میں آیا ہے کہ  کچھ عرصے سے آرکائیو ڈاٹ آرگ والے کافی حد تک Civilized ہوگئے ہیں۔ اب وہ مزید ریکارڈ اس نوعیت کا قبول نہیں کررہے  لیکن سابقہ مواد کو تحلیل کرنا بھی ممکن نہ ہے۔ لہذا کوشش جاری ہے کہ  جہاں تک ممکن ہو لوگوں کو فرقہ واریت سے محفوظ رکھا جائے۔

دوسری اہم بات یہ ہے کہ اسے کیسے کھولا جائے؟

اس ضمن میں عرض یہ ہے کہ آرکائیوڈاٹ آرگ کو کھولنے کی ایک ہی صورت ہے کہ آپ کوئی  پراکسی سروس استعمال کریں۔ جو بلاک کرنے والوں کو یہ ظاہر کرے کہ آپ کسی اور ملک  میں موجودہیں اور  یہ ویب سائٹ کھولنے کی کوشش کررہے ہیں۔ اس طریقے سے آپ اس ویب سائٹ کو مکمل طور پر استعمال کرسکتے ہیں اور بغیر پریشانی کے کتابیں بھی ڈاؤن لوڈ کرسکتے ہیں۔ دوسری صورت وہ بھی ہے جو آرکائیو ڈاٹ آرگ کے بلاک کردہ صفحے پر   صارف کو  بتائی جاتی ہے کہ آپ اپنے ویب ماسٹر سے رجو ع کریں۔ اگر آپ ایسا کرتے ہیں تو  آپ کی درخواست کو لاکھویں  نمبر پر لائن حاضر کیا جاسکتا  ہے جس کانتیجہ صفر ہے۔  یہ طریقہ تو ناقابل استعمال ہی سمجھیں۔ پہلا طریقہ پراکسی والا ہی قابل استعمال ہے۔

پراکسی کون سی اور کیسے استعمال کی جائے؟  بے شمار طریقے ہیں ۔ عام صارفین کے لیے تین آپشن  ہیں۔

                                                                    پہلا آپشن  تو یہ ہے کہ آپ پراکسی سے متعلق کوئی بھی  ویب سائٹ کھول لیں ۔  گوگل پر لاکھو ں پراکسی ویب سائٹس موجود ہیں۔ تلاش کرکے ان کے ذریعے  آرکائیو تک پہنچیں۔  یہ آپشن ان صارفین کے لیے زیادہ بہتر ہے جو ایک آدھ دفعہ آرکائیو تک جانا چاہتے ہیں۔

                                                                    دوسرا آپشن یہ ہے کہ آپ گوگل کروم کے لیے  پراکسی یا وی پی این کی ایکسٹینشن استعمال کرلیں۔ اگر آپ آرکائیو تک بار بار جانا چاہتے ہیں تو یہ طریقہ سب سے زیادہ مفید ہے۔  ایکسٹینشن   ایک چھوٹا ساٹول ہے جو آپ گوگل کروم میں انسٹال   کرتے  ہیں۔ لاکھوں ٹولز میں سے ایک ٹول پراکسی بھی ہے۔ پراکسی/ وی پی این  کی  ایکسٹینشن  بھی سینکڑوں کی تعداد میں ہوں گی۔ ان  میں سے کوئی ایک انسٹال کرلیں۔  ایکسٹینشن کو آپ بوقت ضرورت آن  یا آف کرسکتے ہیں۔ اسے بوقت ضرورت آن کرلیا کریں۔ باقی اوقات میں بند  ہی رکھیں کیوں کہ  پراکسی یا وی پی این کی تمام سروسزآپ کے انٹرنیٹ کی رفتار کو متاثر  کرتی ہیں۔

                                                                    تیسرا آپشن انڈرائیڈ کا ہے ۔ اگر آپ انڈرائیڈ پر آرکائیو ڈاٹ آرگ استعمال کرنا چاہتے ہیں تو  آپ  گوگل کے پلے سٹور  سے یا جو بھی  پلے سٹورآپ استعمال کرتے ہیں ، اس سے وی پی این کی کوئی ایک ایپلیکیشن انسٹال کرلیں۔ بوقت ضرورت اسے  Connect  کرکے آرکائیو ڈاٹ آرگ چلالیں۔تینوں صورتوں میں آپ آرکائیو تک رسائی حاصل کرسکیں گے۔

                                                                    مزید یہ کہ اس معاملے میں سرکاری اداروں  کا کردار نہ ہونے کے برابر ہے۔ موجودہ حالات کے مطابق متعلقہ اداروں سے درخواست کرنے یا احساس دلانے کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔  پچھلے سال سن دوہزار اٹھارہ کے وسط میں  انٹرنیٹ  کی سروس فراہم کرنے والی صرف ایک کمپنی  نے آرکائیو ڈاٹ آرگ  کی سروس کو معطل کیا تھا۔ پھر 2018 ء کے آخر میں ایک اور کمپنی نے اسے بلاک کیا۔ اور حالیہ دنوں تمام کمپنیز اسے بلاک کرچکی ہیں ۔  ذاتی  حیثیت سے کیا آپ اس سوال کا جواب دے سکتے ہیں کہ دو کمپنیز 2018ء میں آرکائیوڈاٹ آرگ کو بلاک کرتی ہیں ۔  اپریل  مئی 2019ء  میں ایک  کے بعد ایک  سب مل کر اسے بلاک کردیتے ہیں۔  کیا  یہ پالیسی 2018 ء  کی  تھی ؟ اگر ہاں تو یہ  پالیسی صرف دو کمپنیوں  پر لاگو کیوں ہوئی؟  باقی کمپنیوں نے یہ قدم  کیوں نہیں اٹھایا؟    یا یہ پالیسی اب بنائی گئی ہے۔ اگر اب بنی ہے تو اس کے مقاصد کیا ہیں؟  حقیقت یہ ہے کہ  جو اس معاملے میں بولنے کے مجاز اور ذمہ دار ہیں انہیں خود معلوم نہیں  کہ  اس مسئلے کا کیا حل نکالا جائے۔   یہ معاملہ جلد یا بدیر حل ہوتاہوا نظر نہیں آتا ۔ فرض کریں کہ   اگر سرکاری سطح پر آرکائیو  ڈاٹ آرگ کی بندش اٹھالینے  کے احکامات آبھی جائیں تو  ممکن ہے  کوئی ایک بہی خواہ  کمپنی وسیع تر مفاد میں از خود   آپ کو فرقہ واریت سے دور رکھنے کی کوشش کرے۔  اور ہم حکم ربی سمجھ کر سوال کی بھی  زحمت نہ کریں کہ ایسا کیوں ہے اور کس نے یہ اختیار انہیں سونپا ہے ۔ کتاب دوستوں کے لیے بہتر ہوگا  کہ وہ متبادل ذرائع سے آگاہ رہیں  سسٹم کو ڈی ریل ہونے سے بچا کے رکھیں ۔ کیا خبر آپ ذاتی   مطالعے  یا تحقیق کے لیے  کوئی کتاب ڈاؤن لوڈ کررہے ہو اور سات سمندر    پار بیٹھاشخص سمجھے کہ آپ ”فرقہ واریت ڈاؤن لوڈ “ کررہے ہیں۔

 

جواب دیں